صحیح مسلم کا آپریشن پارٹ نمبر - 47
صحیح مسلم کی تیسری روایت کی تضعیف!!
صحیح مسلم جلد3 باب صفات المنافقین میں یہ روایت ہے -
ابو ھریرہ کہتا ہے کہ رسول ص نے میرا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا کہ اللہ ج نے مٹی (زمین) کو ہفتہ کے دن پیدا کیا اور اتوار کے دن اس میں پہاڑوں کو پیدا کیا، اور درخت سوموار (پیر) کے دن پیدا کیے، اور کام کاج کی اشیاء منگل کے دن پیدا کیں، اور نور روشنی کو بدھ کے دن پیدا کیا، اور جمعرات کے دن زمین میں جانوروں کو پھیلایا، اور آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد مخلوقات میں سب سے بعد جمعہ کی سب سے آخری ساعت میں عصر سے لے کر رات تک پیدا فرمایا -
روایت ختم ہوئی-
ناصبیوں کے عالم شیخ طاہر الجزائری نے بھی اپنی کتاب میں صحیح مسلم کی اس روایت کی تضعیف کی ہے
علامہ جزائری لکھتاہے :
قَالَ بعض الْحفاظ قد وَقع فِي صَحِيح مُسلم أَلْفَاظ قَليلَة غلط فِيهَا الرَّاوِي مثل مَا رُوِيَ إِن الله خلق التربة يَوْم السبت وَجعل خلق الْمَخْلُوقَات فِي الْأَيَّام
السَّبْعَة
فَإِن هَذَا الحَدِيث قد بَين أَئِمَّة الحَدِيث مثل يحيى بن معِين وَعبد الرَّحْمَن بن مهْدي وَالْبُخَارِيّ وَغَيرهم أَنه غلط وَأَنه لَيْسَ من كَلَام النَّبِي ص = بل صرح البُخَارِيّ أَنه من كَلَام كَعْب الْأَحْبَار
وَالْقُرْآن قد بَين أَن الْخلق كَانَ فِي سِتَّة أَيَّام وَثَبت فِي الصَّحِيح أَن آخر الْخلق كَانَ يَوْم الْجُمُعَة فَيكون أول الْخلق يَوْم الْأَحَد
السَّبْعَة
فَإِن هَذَا الحَدِيث قد بَين أَئِمَّة الحَدِيث مثل يحيى بن معِين وَعبد الرَّحْمَن بن مهْدي وَالْبُخَارِيّ وَغَيرهم أَنه غلط وَأَنه لَيْسَ من كَلَام النَّبِي ص = بل صرح البُخَارِيّ أَنه من كَلَام كَعْب الْأَحْبَار
وَالْقُرْآن قد بَين أَن الْخلق كَانَ فِي سِتَّة أَيَّام وَثَبت فِي الصَّحِيح أَن آخر الْخلق كَانَ يَوْم الْجُمُعَة فَيكون أول الْخلق يَوْم الْأَحَد
اور بعض حافظین حدیث کے مطابق صحیح مسلم میں بعض قلیل الفاظ میں راویان نے غلطی کی ہے جیسے یہ روایت کہ اللہ نے زمین کو ساتوے دن بنایا اور مخلوقات کو ساتوے دن بنایا تو اس حدیث کو آئمہ احادیث جیسے ابن معین، ابن مھدی، بخاری اور دگیر نے غلط کہا ہے اور مزید کہا کہ یہ رسول ص کے الفاظ نہیں بلکہ بخاری کے مطابق یہ کعب الاحبار کے ہے اور قرآن کے مطابق خلقت چھ دن میں مکمل ہوئی اور صحیح روایت میں بھی چھ دن کی خلقت مراد ہے جو جمعہ کو ختم ہوئی اور اتوار کو شروع ہوئی
توجيه النظر إلى أصول الأثر " ص 739"740




No comments:
Post a Comment