صحیح مسلم کا آپریشن پارٹ نمبر -15
ناصبیوں کے امام نووی جس نے صحیح مسلم کی شرح کی ہے اس نے بھی شرح نووی میں صحیح مسلم کی حدیث " واذا قرا فانصتو " کی تضعیف کی ہے -
نووی لکھتا ہےواعلم أن هذه الزيادة وهي قوله : ( وإذا قرأ فأنصتوا ) مما اختلف الحافظ في صحته ، فروى البيهقي في السنن الكبير عن أبي داود السجستاني أن هذه اللفظة ليست بمحفوظة ، وكذلك رواه عن يحيى بن معين وأبي حاتم الرازي والدارقطني والحافظ أبي علي النيسابوري شيخ الحاكم أبي عبد الله .
قال البيهقي : قال أبو علي الحافظ : هذه اللفظة غير محفوظة ، قد خالف سليمان التيمي فيها جميع أصحاب قتادة ، واجتماع هؤلاء الحفاظ على تضعيفها مقدم على تصحيح مسلم ، لا سيما ولم يروها مسندة في صحيحه . والله أعلم
بیھقی کے مطابق ابو داود اس جملہ کو غیر محفوظ کہتے تھے
اس ہی طرح ابن معین، ابو حاتم الرازی، دار القطنی، ابو علی نیشاپوری سے بھی اس روایت پر جراح منقول ہے
اس ہی طرح ابن معین، ابو حاتم الرازی، دار القطنی، ابو علی نیشاپوری سے بھی اس روایت پر جراح منقول ہے
بیھقی کہتا ہے کہ ابو علی حافظ اس زیادتی کو غیر محفوظ کہتے کیونکہ سلیمان التیمی نے قتادہ کے دیگر شاگردوں کی مخالفت کی ہے، اور تمام حافظین اس مقطع کی تضعیف پر متفق ہیں اور ان کا اجماع مسلم کی تصحیح پر مقدم ہے


No comments:
Post a Comment