صحیح مسلم پارٹ 22-Sahih Muslim Part 22 - Asna-Ashar (اثنا عشر)

Asna-Ashar (اثنا عشر)

Welcome to Ali Nasir Blog

Breaking

صحیح مسلم پارٹ 22-Sahih Muslim Part 22




صحیح مسلم کا آپریشن پارٹ نمبر -22


صحیح مسلم کی دوسری روایت کی تضعیف!
روایت یہ ہے جو صحیح مسلم باب ابو سفیان کے مناقب میں ہے :
ابن عباس قال: كان المسلمون لا ينظرون إلى أبي سفيان ولا يقاعدونه. فقال للنبي صلى الله عليه وسلم: يا نبي الله! ثلاث أعطنيهن. قال "نعم"
قال: عندي أحسن العرب وأجمله، أم حبيبة بنت أبي سفيان، أزوجكها. قال "نعم"
قال: ومعاوية، تجعله كاتبا بين يديك. قال "نعم".
 قال: وتؤمرني حتى أقاتل الكفار، كما كنت أقاتل المسلمين. قال "نعم".
ابن عباس کہتے ہے کہ لوگ ابو سفیان کی طرف بنظر عزت نہیں دیکھتے تھے اورنہ ہی اس کے ساتھ بیٹھتے ہیں، تو ابوسفیان نے کہا کہ اے اللہ کے رسول مجھے تین چیزیں عطاء کیجئے
میرے پاس عرب کی سب سے خوبصورت لڑکی ام حبیبہ ہے میں اس کا نکاح آپ سے کرنا چاہتا ہوں، رسول ص نے وہ بات مانی، دوسری کہ معاویہ کو آپ اپنا کاتب بنائے جس کو رسول ص نے مانا اور تیسرا مجھے کفار سے اس ہی طرح جہاد کی اجازت دیں جیسے میں نے ماضی میں مسلمانوں کے خلاف جنگ کی رسول ص نے حامی بھری
(روایت ختم ہوئی)
اشکال یہ ہے کہ ام حبیبہ کا نکاح رسول ص سے بہت پہلے ہوگیا تھا جب ابوسفیان کافر تھا تو ام حبیبہ کے نکاح کی بابت کہنا یہ بعد از اسلام ابی سفیان ہے یہ غلط ہے اور اس روایت پر علماء نے جراح کی ہے جو ہم مسلسل پیش کر رہے ہیں
اس پوسٹ میں ہم ناصبیوں کے عالم ابن قیم الجوزی کی اس حدیث پر جرح پیش کر رہے ہیں -
 فَهَذَا الْحَدِيثُ غَلَطٌ لَا خَفَاءَ بِهِ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَزْمٍ: وَهُوَ مَوْضُوعٌ بِلَا شَكٍّ، كَذَبَهُ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، وَقَالَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: هُوَ وَهْمٌ مِنْ بَعْضِ الرُّوَاةِ لَا شَكَّ فِيهِ وَلَا تَرَدُّدَ، وَقَدِ اتَّهَمُوا بِهِ عِكْرِمَةَ بْنَ عَمَّارٍ؛
ابن جوزی کتاب "زاد المعاد في هدي خير العباد" میں کہتا ہے -
یہ حدیث بالکل غلط ہے جس میں شک نہیں۔
ابن حزم نے کہا کہ یہ روایت موضوع (جھوٹی) ہے اور اس کی وجہ عکرمہ بن عمار کا جھوٹا ہونا
 ابن جوزی کے بقول اہل تاریخ کا اجماع ہے کہ یہ روایت میں بعض راویوں کو وہم ہوا ہے بلا شک

No comments:

Post a Comment