صحیح مسلم کا آپریشن پارٹ نمبر -21
صحیح مسلم کی دوسری روایت کی تضعیف!
روایت یہ ہے جو صحیح مسلم باب ابو سفیان کے مناقب میں ہے :
ابن عباس قال: كان المسلمون لا ينظرون إلى أبي سفيان ولا يقاعدونه. فقال للنبي صلى الله عليه وسلم: يا نبي الله! ثلاث أعطنيهن. قال "نعم"
قال: عندي أحسن العرب وأجمله، أم حبيبة بنت أبي سفيان، أزوجكها. قال "نعم"
قال: ومعاوية، تجعله كاتبا بين يديك. قال "نعم".
قال: وتؤمرني حتى أقاتل الكفار، كما كنت أقاتل المسلمين. قال "نعم".
قال: عندي أحسن العرب وأجمله، أم حبيبة بنت أبي سفيان، أزوجكها. قال "نعم"
قال: ومعاوية، تجعله كاتبا بين يديك. قال "نعم".
قال: وتؤمرني حتى أقاتل الكفار، كما كنت أقاتل المسلمين. قال "نعم".
ابن عباس کہتے ہے کہ لوگ ابو سفیان کی طرف بنظر عزت نہیں دیکھتے تھے اورنہ ہی اس کے ساتھ بیٹھتے ہیں، تو ابوسفیان نے کہا کہ اے اللہ کے رسول مجھے تین چیزیں عطاء کیجئے
میرے پاس عرب کی سب سے خوبصورت لڑکی ام حبیبہ ہے میں اس کا نکاح آپ سے کرنا چاہتا ہوں، رسول ص نے وہ بات مانی، دوسری کہ معاویہ کو آپ اپنا کاتب بنائے جس کو رسول ص نے مانا اور تیسرا مجھے کفار سے اس ہی طرح جہاد کی اجازت دیں جیسے میں نے ماضی میں مسلمانوں کے خلاف جنگ کی رسول ص نے حامی بھری
(روایت ختم ہوئی)
اشکال یہ ہے کہ ام حبیبہ کا نکاح رسول ص سے بہت پہلے ہوگیا تھا جب ابوسفیان کافر تھا تو ام حبیبہ کے نکاح کی بابت کہنا یہ بعد از اسلام ابی سفیان ہے یہ غلط ہے اور اس روایت پر علماء نے جراح کی ہے جو ہم مسلسل پیش کر رہے ہیں
اس پوسٹ میں ہم ناصبیوں کے امام ابن اثیر کی اس روایت پر جرح پیش کر رہے ہیں
ابن اثیر کا تبصرہ مسلم کی حدیث پر
ابن الأثير اپنی کتاب أسد الغابة میں کہتا ہے :
و هذا مما يعد من أوهام مسلم لأن رسول الله (ص) كان قد تزوجها و هي بالحبشة قبل اسلام أبي سفيان.
و هذا مما يعد من أوهام مسلم لأن رسول الله (ص) كان قد تزوجها و هي بالحبشة قبل اسلام أبي سفيان.
اور یہ روایت مسلم کے اوھام میں سے ہے (یعنی روایت غلط ہے) کہ رسول ص نے ابوسفیان کی گذارش پر شادی کی جب کہ رسول ص نے ابوسفیان کے اسلام سے پہلے حبشہ میں جب ام حبیبہ تھی تو شادی کرلی تھی




No comments:
Post a Comment