صحیح مسلم پارٹ 19-Sahih Muslim Part 19 - Asna-Ashar (اثنا عشر)

Asna-Ashar (اثنا عشر)

Welcome to Ali Nasir Blog

Breaking

صحیح مسلم پارٹ 19-Sahih Muslim Part 19





صحیح مسلم کا آپریشن پارٹ نمبر -19



قارئین اب ہم صحیح مسلم کی دوسری روایت کی تضعیف ثابت کریں گے-
روایت یہ ہے جو صحیح مسلم باب ابو سفیان بن حرب کے مناقب میں ہے :
ابن عباس قال: كان المسلمون لا ينظرون إلى أبي سفيان ولا يقاعدونه. فقال للنبي صلى الله عليه وسلم: يا نبي الله! ثلاث أعطنيهن. قال "نعم"
قال: عندي أحسن العرب وأجمله، أم حبيبة بنت أبي سفيان، أزوجكها. قال "نعم"
قال: ومعاوية، تجعله كاتبا بين يديك. قال "نعم".
 قال: وتؤمرني حتى أقاتل الكفار، كما كنت أقاتل المسلمين. قال "نعم".
ابن عباس کہتے ہے کہ لوگ ابو سفیان کی طرف بنظر عزت نہیں دیکھتے تھے اورنہ ہی اس کے ساتھ بیٹھتے تھے، تو ابوسفیان نے کہا کہ اے اللہ کے رسول مجھے تین چیزیں عطاء کیجئے
میرے پاس عرب کی سب سے خوبصورت لڑکی ام حبیبہ ہے میں اس کا نکاح آپ سے کرنا چاہتا ہوں، رسول ص نے وہ بات مانی، دوسری کہ معاویہ کو آپ اپنا کاتب بنائے جس کو رسول ص نے مانا اور تیسرا مجھے کفار سے اس ہی طرح جہاد کی اجازت دیں جیسے میں نے ماضی میں مسلمانوں کے خلاف جنگ کی رسول ص نے حامی بھری
(روایت ختم ہوئی)
اشکال یہ ہے کہ ام حبیبہ کا نکاح رسول ص سے بہت پہلے ہوگیا تھا جب ابوسفیان کافر تھا تو ام حبیبہ کے نکاح کی بابت کہنا یہ بعد از اسلام ابی سفیان ہے یہ غلط ہے اور اس روایت پر علماء نے جراح کی ہے جو ہم پیش کرتے رہیں گے اس وقت ہم اس روایت پر ناصبیوں کے امام ذھبی کی جرح پیش کرتے ہیں
ذھبی کہتا ہے:
قد ساق له مسلم في الأصول حديثا منكرا ، وهو الذي يرويه عن سماك الحنفي ، عن ابن عباس ، في الأمور الثلاثة التي التمسها أبو سفيان ، من النبي - صلى الله عليه وسلم .
مسلم نے اپنے اصول میں ایک روایت منکر (جو ضعیف کی ایک قسم ہے) عمار کی سماک الحنفی سے اور وہ ابن عباس کے طریق سے نقل کی جس میں ابو سفیان نے نبی ص سے تین چیزوں کی درخواست کی تھیں۔
تو ناصبیوں کے امام ذھبی نے صحیح مسلم کی اس روایت کو <منکر> ضعیف کی اقسام میں سے قرار دیا ہے

No comments:

Post a Comment