صحیح مسلم کا آپریشن پارٹ نمبر -29
صحیح مسلم کی دوسری روایت کی تضعیف!
روایت یہ ہے جو صحیح مسلم باب ابو سفیان کے مناقب میں ہے
ابن عباس قال: كان المسلمون لا ينظرون إلى أبي سفيان ولا يقاعدونه. فقال للنبي صلى الله عليه وسلم: يا نبي الله! ثلاث أعطنيهن. قال "نعم"
قال: عندي أحسن العرب وأجمله، أم حبيبة بنت أبي سفيان، أزوجكها. قال "نعم"
قال: ومعاوية، تجعله كاتبا بين يديك. قال "نعم".
قال: وتؤمرني حتى أقاتل الكفار، كما كنت أقاتل المسلمين. قال "نعم".
قال: عندي أحسن العرب وأجمله، أم حبيبة بنت أبي سفيان، أزوجكها. قال "نعم"
قال: ومعاوية، تجعله كاتبا بين يديك. قال "نعم".
قال: وتؤمرني حتى أقاتل الكفار، كما كنت أقاتل المسلمين. قال "نعم".
ابن عباس کہتے ہے کہ لوگ ابو سفیان کی طرف بنظر عزت نہیں دیکھتے تھے اورنہ ہی اس کے ساتھ بیٹھتے ہیں، تو ابوسفیان نے کہا کہ اے اللہ کے رسول مجھے تین چیزیں عطاء کیجئے
میرے پاس عرب کی سب سے خوبصورت لڑکی ام حبیبہ ہے میں اس کا نکاح آپ سے کرنا چاہتا ہوں، رسول ص نے وہ بات مانی، دوسری کہ معاویہ کو آپ اپنا کاتب بنائے جس کو رسول ص نے مانا اور تیسرا مجھے کفار سے اس ہی طرح جہاد کی اجازت دیں جیسے میں نے ماضی میں مسلمانوں کے خلاف جنگ کی رسول ص نے حامی بھری
ناصبیوں کے عالم تقی الدین مقریزی نے بھی صحیح مسلم کی اس روایت کی تضعیف کی ہے -
مقریزی کہتا ہے:
مقریزی کہتا ہے:
ومن أنصف علم أن هذه التأويلات كلها بعيدة، وأن الصواب في الحديث أنه غير محفوظ، بل وقع فيه تخبيط، واللَّه أعلم.
اور جو علم کے ساتھ انصاف کرے (وہ جان لے گا کہ جو صحیح مسلم کی حدیث کو بچانے کے لئے وہ) تمام تاویلات بعید ہیں، اور صحیح بات یہ ہے کہ روایت محفوظ نہیں بلکہ اس روایت میں غلطی واقع ہوئی ہے، اللہ اعلم۔
إمتاع الأسماع بما للنبي من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع جلد ٦ ص ٨١


No comments:
Post a Comment