ہم یہاں ناصبی دھرم کے گروگھنٹال ابن تیمیہ کی چھترول پیش کرتے ہیں جو ان کے علماء نے کی ہے -
ابن تیمیہ کے متعلق علامہ سبکی لکھتا ہے :
ابن تيمية هو ضال مضل
ابن تيمية هو ضال مضل
” ابن تیمیہ گمراہ ہیں اور گمراہ کرنے والے ہیں“۔
(کتاب فیض القدیر شرح جامع الصغیر-سکین پیج ملاحظہ کریں )
(کتاب فیض القدیر شرح جامع الصغیر-سکین پیج ملاحظہ کریں )
پھر علامہ شامی علامہ سبکی کے حوالے سے ہی نقل کرتا ہے
قَالَ وَقَالَ السُّبْكِيُّ: يَحْسُنُ التَّوَسُّلُ بِالنَّبِيِّ إلَى رَبِّهِ وَلَمْ يُنْكِرْهُ أَحَدٌ مِنْ السَّلَفِ وَلَا الْخَلَفِ إلَّا ابْنَ تَيْمِيَّةَ فَابْتَدَعَ مَا لَمْ يَقُلْهُ عَالِمٌ قَبْلَهُ
قَالَ وَقَالَ السُّبْكِيُّ: يَحْسُنُ التَّوَسُّلُ بِالنَّبِيِّ إلَى رَبِّهِ وَلَمْ يُنْكِرْهُ أَحَدٌ مِنْ السَّلَفِ وَلَا الْخَلَفِ إلَّا ابْنَ تَيْمِيَّةَ فَابْتَدَعَ مَا لَمْ يَقُلْهُ عَالِمٌ قَبْلَهُ
نبی کریمﷺ کا وسیلہ پیش کرنا مستحن ہے اور سلف اور خلف میں سے ابن تیممیہ کے سوا کسی نے اس کا انکار نہیں کیا اس نے یہ بدعت کی اور وہ بات کہی جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کی۔
(رد المختار ج 6 ص 397)
علامہ انور شاہ کشمیری دیوبندی ابن تیمیہ کے متعلق لکھتا ہے :
ابن تیمیہ گو پہاڑ ہیں علم کے مگر کتاب سیبویہ کو نہیں سمجھ سکے ہوں گے کیونکہ عربیت اونچی نہیں ہے۔ فلسفہ بھی اتنا جانتے ہیں کہ کم اتنا جاننے والے ہوں گے مگر ناقل ہیں۔ حاذق نہیں ہیں۔معقولات کا حاضر رکھنے والا بھی ان جیسا کم ہوا ہے اور مطالعہ بھی بہت زیادہ ہے مگر باوجود اس کے کچی بات کو اختیار کر لیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حاذق نہ تھے سیبویہ کی سترہ غلطیاں نکالی ہیں اور میرا خیال ہے کہ خود ہی غلط سمجھے ہوں گے۔
(کتاب کا سکین دیا گیا ہے )
(کتاب کا سکین دیا گیا ہے )
ابن حجر هيتمي ابن تیمیہ ناصبی کے متعلق لکھتا ہے :
ابْن تَيْمِية عبد خذله الله وأضلَّه وأعماه وأصمه وأذلَّه، وَبِذَلِك صرح الْأَئِمَّة
ابن تیمیہ وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالٰی نے رسوا کیا اور گمراہ کیا اور اندھا کیا اور بہراہ کیا اور ذلیل کیا اس کی بڑے بڑے ائمہ نے تصریح کی ہے۔
(الفتاوى الحديثية ج 1 ص 83)
ناصبیوں کے امام ابن تیمیہ کی چھترول پر کافی حوالہ جات ہیں اور اس کے علاوہ دیگر دیوبندی و ناصبی علماء کی چھترول بھی ان کے اپنے اکابرین کی زبانی پیش کی جا سکتی ہے اگر بھگوڑے خان نے خواہش کی تو ہم وہ بھی پیش کریں گے ان شا اللہ -






No comments:
Post a Comment