صحیح مسلم کا آپریشن پارٹ نمبر -28
صحیح مسلم کی دوسری روایت کی تضعیف!
روایت یہ ہے جو صحیح مسلم باب ابو سفیان کے مناقب میں ہے :
ابن عباس قال: كان المسلمون لا ينظرون إلى أبي سفيان ولا يقاعدونه. فقال للنبي صلى الله عليه وسلم: يا نبي الله! ثلاث أعطنيهن. قال "نعم"
قال: عندي أحسن العرب وأجمله، أم حبيبة بنت أبي سفيان، أزوجكها. قال "نعم"
قال: ومعاوية، تجعله كاتبا بين يديك. قال "نعم".
قال: وتؤمرني حتى أقاتل الكفار، كما كنت أقاتل المسلمين. قال "نعم".
قال: عندي أحسن العرب وأجمله، أم حبيبة بنت أبي سفيان، أزوجكها. قال "نعم"
قال: ومعاوية، تجعله كاتبا بين يديك. قال "نعم".
قال: وتؤمرني حتى أقاتل الكفار، كما كنت أقاتل المسلمين. قال "نعم".
ابن عباس کہتے ہے کہ لوگ ابو سفیان کی طرف بنظر عزت نہیں دیکھتے تھے اورنہ ہی اس کے ساتھ بیٹھتے ہیں، تو ابوسفیان نے کہا کہ اے اللہ کے رسول مجھے تین چیزیں عطاء کیجئے
میرے پاس عرب کی سب سے خوبصورت لڑکی ام حبیبہ ہے میں اس کا نکاح آپ سے کرنا چاہتا ہوں، رسول ص نے وہ بات مانی، دوسری کہ معاویہ کو آپ اپنا کاتب بنائے جس کو رسول ص نے مانا اور تیسرا مجھے کفار سے اس ہی طرح جہاد کی اجازت دیں جیسے میں نے ماضی میں مسلمانوں کے خلاف جنگ کی رسول ص نے حامی بھری
ناصبیوں کے امام ابن کثیر نے بھی اپنی کتاب " الفصول فی سیرة" میں صحیح مسلم کی اس روایت پر جرح کی ہے
ابن کثیر کہتا ہے:
فقد استغرب ذلك من مسلم رحمه الله، كيف لم يتنبه لهذا؟ لأن أبا سفيان، إنما أسلم ليدلة الفتح، وقد كانت بعد تزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم أم حبيبة بسنة وأكثر، وهذا مما لا خلاف فيه.
اور یہ بات مسلم کی(امام مسلم کے متعلق کہتا ہے ) کافی عجیب ہے کہ وہ اس بات پر متنبہ نہیں ہوئے کہ ابوسفیان فتح مکہ کی رات مسلمان ہوا اور رسول س کی ام حبیبہ سے شادی ایک سال سے زائد عرصہ پہلے ہوگئی تھی جس کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں



No comments:
Post a Comment