صحیح مسلم پارٹ 3-Sahih Muslim Part 3 - Asna-Ashar (اثنا عشر)

Asna-Ashar (اثنا عشر)

Welcome to Ali Nasir Blog

Breaking

صحیح مسلم پارٹ 3-Sahih Muslim Part 3










پارٹ 4-

ناصبیوں کے امام حافظ ابی الفضل بن عمار اپنی کتاب "علل الاحادیث فی صحیح مسلم "
میں صحیح مسلم کی اسی حدیث **واذا قرا فانصتو** کے متعلق لکھتا ہے
"وازا قرا فانصتو ھو عندنا وھم من التیمی "
یعنی یہ قول ہمارے نزدیک تیمی کا وہم ہے -
اب یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ ابی الفضل بن عمار نے کتاب کا نام علل احادیث فی مسلم لکھا ہے
علل کیا ہوتا ہے؟ علل یہ ہے کہ روایت معلول نہ ہو اور  معلول ضعیف کی ہی اقسام میں سے ہوتی ہے تفصیل کتاب اصطلاحات الحدیث کے سکین میں دیکھی جا سکتی ہے -
 یعنی اگر اس کتاب کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ اس کے علاوہ بھی صحیح مسلم کی کتنی روایات کو ابی الفضل بن عمار نے معلل قرار دیا ہے -
 اسی طرح حافظ محمد گوندھلوی اپنی کتاب "خیر الکلام" میں لکھتا ہے کہ امام بخاری فرماتے ہیں اس حدیث میں یہ جملہ بھی شاذ ہے لہذا یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ جملہ ابو ھریرہ کی کسی روایت میں کسی اور سند کے ساتھ نہیں آیا -
 دیگر ناصبی جن کا یہ دعوی ہے کہ صحیح مسلم ساری کی ساری صحیح ہے -حافظ ابی فضل بن عمار اور بخاری کا قول جو حافظ گوندھلوی نے نقل کیا ہے یہ ان کے دعوی کو زمین بوس کر دیتا ہے -
اور ایک جگہ گوندھلوی لکھتا ہے کہ یہ جملہ "واذا قرا فانصتو " یہ جملہ کوئی شے نہیں ہے
اچھا مزے کی بات یہ ہے کہ اسی کتاب کے صفحہ 3111 پر امام احمد بن حمبل کے متعلق یہ ملتا ہے کہ وہ اس کی وکالت کرتا تھا کیونکہ لکھتا ہے امام احمد سے کہا گیا کہ کہتے ہیں کہ تیمی نے خطا کی ہے تو امام احمد بن حمبل نے کہا جو شخص ایسا کہتا ہے وہ تیمی پر بہتان باندھتا ہے
(اب اس فتوی کی زد میں ناصبیوں کا امام ابی الفضل بن عمار جسکا اوپر زکر کیا ہے آ جاتا ہے )
 آگے لکھتا ہے اس نے یہ زیادتی کی ہے اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے -
 
 تو اب محمد گوندھلوی اور امام ابی الفضل بن عمار اور دیگر آئمہ جنہوں نے صحیح مسلم کی اسی حدیث کی تضعیف کی ہے ان کا کیا بنے گا؟؟؟

No comments:

Post a Comment