تکذیب ابن تیمیہ ۱:حدیث (اللھم وال من والاہ) پر ابن تیمیہ کا جھوٹ - Asna-Ashar (اثنا عشر)

Asna-Ashar (اثنا عشر)

Welcome to Ali Nasir Blog

Breaking

تکذیب ابن تیمیہ ۱:حدیث (اللھم وال من والاہ) پر ابن تیمیہ کا جھوٹ

ابن تیمیہ کا بغض علی ع میں رسول ص کی صحیح حدیث سے انکار


ابن تیمیہ نے حدیث ((اللھم وال من وال و عاد من عاداہ))۔کا بغض امیرالمومنین ع میں انکار کیا جبکہ اس حدیث کو مشہور ناصبی ابن کثیر نے اپنی تاریخ "البدایۃ والنھایۃ "میں ذکر کیا ہے جسکی تصحیح ریاض عبدالحمید مراد محمد اور محمد حسان عبید نے کی ہے۔

ابن تیمیۃ نے حدیث غدیر میں جملہ اضافہ ((وال من والا و عاد من عاداہ))کا انکار کیا کہ یہ رسول پر جھوٹ باندھا گیا ہے ۔جبکہ یہ روایت صحیح ہے جسکو ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں ذکر کیا ہےجسکی تصحیح سعد بن ناصر الشتری نے کی ہے۔

ابن تیمیۃ نے حدیث غدیر میں جملہ اضافہ ((وال من والا و عاد من عاداہ))کا انکار کیا کہ یہ رسول پر جھوٹ باندھا گیا ہے جسکو امام اہلسنت امام نسائی نے خصائص امام علیؑ میں ذکر کیا ہے اور اسکی تصحیح محقق اسحاق الحوینی نے کی ہے۔

ابن تیمیۃ نے حدیث غدیر میں جملہ اضافہ ((وال من والا و عاد من عاداہ))کا انکار کیا کہ یہ رسول پر جھوٹ باندھا گیا ہے جبکہ امام اہلسنت احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں اسکا ذکر کیا ہے جسکی تصحیح صالح احمد الشامی نے کی ہے۔ 


 ابن تیمیۃ نے حدیث غدیر میں جملہ اضافہ ((وال من والا و عاد من عاداہ))کا انکار کیا کہ یہ رسول پر جھوٹ باندھا گیا ہے جبکہ امام اہلسنت احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں اسکا ذکر کیا اور اسکی تصحیح ناصبی شعیب الارنووط نے کی ہے۔

ابن تیمیۃ نے حدیث غدیر میں جملہ اضافہ ((وال من والا و عاد من عاداہ))کا انکار کیا کہ یہ رسول پر جھوٹ باندھا گیا ہے۔اسی حدیث کو محقق الالبانی نے اپنی کتاب سلسلہ الاحادیث الصحیحہ میں میں ذکر کیا ہے ،جسکا مطلب یہ ہوا کہ البانی کے نزدیک بھی یہ روایت صحیح ہے ۔

۔علی ناصر

No comments:

Post a Comment