علماء نے بخاری و مسلم کی روایات پر بھی نقد کیا ہے اور تضعیف بھی کی ہے -جیسا کہ اس وقت میرے سامنے ارشاد الحق اثری کی کتاب توضیح الکلام ہے جس میں ارشاد الحق صحیح مسلم کی حدیث "فاذا قرا فانصتو" کو سب سے پہلے توخود شاز کہتا ہے -اور پھر لکھتا ہے کہ اس کے متعلق تصحیح و تضعیف میں اختلاف ہے امام مسلم نے اگرچہ اسکی تصحیح کی ہے مگر "بخاری "ابن معین " ابو حاتم اور دار قطنی وغیرہ نے اس کی تضعیف کی ہے
تو سب سے پہلے تو اتنے آئمہ اہلسنت کا مسلم کی حدیث کی تضعیف کرنا ناصبیوں کے اس نظریہ کو زمین بوس کر دیتا ہے کہ صحیح مسلم ساری کی ساری صحیح ہے
(بخاری پر بھی بات ہو گی ابھی چونکہ موضوع صحیح مسلم ہے )
(بخاری پر بھی بات ہو گی ابھی چونکہ موضوع صحیح مسلم ہے )
اب شاہ ولی اللہ اپنی کتاب حجتہ اللہ البالغہ میں کہتا ہے کہ جو بخاری و مسلم میں شک کرے وہ بدعتی ہے -
جبکہ ارشاد الحق اثری صحیح مسلم کی حدیث کو شاز کہتا ہے اور آگے ان آئمہ حدیث کے نام لکھتا ہے (جن کا میں نے اوپر زکر کیا ہے )
ناصبی جو بخاری و مسلم کو مکمل صحیح مانتے ہیں اور شاہ ولی اللہ کے فتوی کے مطابق پھر ارشاد الحق اور جن آئمہ حدیث نے صحیح مسلم کی حدیث کی تضعیف کی ہے ان کا کیا ہو گا؟؟؟
تو جن کا یہ دعوی ہے کہ بخاری و مسلم مکمل صحیح ہیں ان کا یہ دعوی زمین بوس ہو جاتا ہے -
جبکہ ارشاد الحق اثری صحیح مسلم کی حدیث کو شاز کہتا ہے اور آگے ان آئمہ حدیث کے نام لکھتا ہے (جن کا میں نے اوپر زکر کیا ہے )
ناصبی جو بخاری و مسلم کو مکمل صحیح مانتے ہیں اور شاہ ولی اللہ کے فتوی کے مطابق پھر ارشاد الحق اور جن آئمہ حدیث نے صحیح مسلم کی حدیث کی تضعیف کی ہے ان کا کیا ہو گا؟؟؟
تو جن کا یہ دعوی ہے کہ بخاری و مسلم مکمل صحیح ہیں ان کا یہ دعوی زمین بوس ہو جاتا ہے -





No comments:
Post a Comment